بنگلورو،25/ جون (ایس او نیوز) گزشتہ سال فیس بک پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے خلاف اہانت آمیز پوسٹ کی مذمت میں بنگلورو کے کے جی ہلّی میں ہوئے پرتشدد احتجاج کے بعد گرفتار ایس ڈی پی آئی لیڈر مزمل پاشاہ کو کرناٹکا ہائی کورٹ نے ضمانت پر رہا کردیا ہے کیونکہ پولیس کی طرف سے 90 دنوں کی متعینہ مدت کے اندر ملزمین کے خلاف چارج شیٹ داخل نہیں کی گئی تھی۔
خیال رہے کہ 11 اگست 2020 کو کانگریسی لیڈر آر اکھندا سرینواس مورتی کے بھتیجے نوین نے فیس بک پرحضور ﷺ کے خلاف توہین آمیز مسیج پوسٹ کیا تھا۔ اس کے خلاف شکایت درج کروانے کے بعد پولیس کی طرف سے کارروائی میں تاخیر پر کے جی ہلّی اور ڈی جے ہلّی پولیس اسٹیشنوں کےسامنے احتجاجی ہجوم جمع ہوگیا۔ جس پر قابو پانے کے سلسلے میں تعاون کرنے والے بہت سارے افراد کے ساتھ مزمل پاشاہ کو بھی کو فساد بھڑکانے کے الزام میں دہشت گردی مخالف قانون یو اے پی اے کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔
متعینہ مدت کے دوران چارج شیٹ داخل کرنے میں پولیس ناکام ہونے پر ہائی کورٹ نے ملزمین کو ضمانت پر رہا کر دیا۔ جس کے بعد مزمل پاشاہ نے کہا کہ " توہین آمیز پوسٹ کے خلاف شکایت درج کرنے کےلئے جب ہم پولیس اسٹیشن گئے اور وہاں ہجوم بڑھنے لگا تو پولیس نے ہم سے کہا کہ پہلے ہجوم کو قابو میں کرو بعد میں شکایت درج کرلیں گے۔ اسی دوران بہت سارے سیاسی لیڈر وہاں پہنچ گئے اور ان کے دباو میں آکر پولیس نے ہمیں بھی بے بنیاد الزامات کے تحت گرفتار کرلیا تھا۔"
انہوں نے کہا کہ " ہمیں یو اے پی اے جیسے کالے قانون کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔ لیکن آج عدلیہ نے بالکل صحیح فیصلہ سنایا ہے اور ثابت کیا ہے کہ کرناٹکا کی عدلیہ کسی بھی قسم کے دباو میں نہیں ہے۔ یو اے پی اے جیسے کالے قانون کے تحت گرفتار کرتے ہوئے ایک مخصوص گروپ، ایکٹیوسٹس اور سیاسی لیڈروں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ لیکن ہم رکنے والے نہیں ہیں۔ حقوق انسانی اور شہریوں کے حقوق کے لئے ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔ اس طرح کے کالے قانون ہمارے عزائم کو ختم کرنے کے لئے بنائے گئے ہیں۔ ہم آنے والے دنوں میں اس کے خلاف قانونی لڑائی جاری رکھیں گے۔ اور ہمارے ملک کے دستور کو بچائے رکھیں گے۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے۔"